فضلیت عرب ہونے کی بنا پر یا تقویٰ کی بنا پر

سوال: شیخ ابن تیمیہ﷫ نے اپنے فتاو یٰ میں لکھا ہے کہ عربوں کو اپنے عالی نسب ہونے کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے اور یہ رائے نہ صرف ان کی ہے بلکہ اکثر علماء بشمول امام احمد﷫ کی بھی ہے، کیا فضیلت کا معیار تقویٰ نہیں ہے؟
جواب: امام ابن تیمیہ﷫ کا یہ قول فتاوی ابن تیمیہ کی جلد نمبر 19 کے آغاز میں ایک تفصیلی بحث کے ضمن میں آیا ہے ، اور یہ ساری عبارت پڑھنے کے بعد مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔ ہم اس بحث کا خلاصہ پیش کئے دیتے ہیں:
اصل مقصود یہ ہے کہ نبیﷺ نے ایسی صفات کے ساتھ احکام کو مربوط کیا ہے کہ جو اللہ کو پسند ہیں ، اور انہی کو عمل میں لانے کا حکم دیا ہے اورجن صفات کو وہ ناپسند کرتا ہے ان سے روکا ہے۔
عربوں کو بحیثیت عرب کسی خاص حکم کا پابند نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ان کی دعوت روئے زمین کے تمام لوگوں کے لئے تھی لیکن قرآن ان کی اپنی زبان میں بلکہ خاص قریش کی زبان میں نازل ہوا۔ اور اس لیے سیدنا عمر سیدنا ابن مسعود سے کہتے ہیں :
’’ لوگوں کو قریش کی زبان میں قرآن پڑھاؤ کیونکہ قرآن ان کی زبان میں اُترا ہےاور سیدنا عثمان نے قریشیوں اور انصار میں سے ان لوگوں کو جو کا تب قرآن تھے ، کہا: اگر تمہارا کسی بات میں اختلاف ہو تو قریش کے اس قبیلے کی زبان میں لکھو کہ قرآن اُن کی زبان کے مطابق نازل ہوا ہے اور ایسا کرنا تبلیغ کے لئے ضروری تھا کیونکہ نبی کریمﷺ نے پہلے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور پھر ان کے توسط سے ساری دوسری اقوام کو پہنچایا اور جیسے جہاد کے بارے میں کہا تھا کہ پہلے ان لوگوں سے جہاد کرو جو تم سے قریب ہیں اور پھر جو ان سے قریب ہیں، ایسے ہی تبلیغ کے بارے میں کہا کہ پہلے انہیں تبلیغ کرو جو تمہارے قریب ہیں اور پھر جوان سے قریب ہیں۔
جمہور علماء کی یہی رائے ہے کہ جنس عرب غیروں سے بہتر ہے ، جیسے جنس قریش دوسروں سے بہتر ہے اور جنس بنی ہاشم قریش کی دوسری شاخوں سے بہتر ہے اور نبی کریمﷺ کی حدیث ہے :
’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں، جو لوگ جاہلیت میں بہترین تھے، وہی بشرط فہم اسلام میں بھی سب سے بہتر ہیں۔‘‘
لیکن ایک مجموعہ کا دوسرے سے افضل ہوجانے کا یہ مطلب نہیں کہ ان میں سے ہر فرد دوسرے مجموعہ کے ہر فرد سے افضل ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ غیر عرب میں سے بہت سے لوگ اکثر عربوں سے بہتر پائے گئے ہیں۔
اور اسی طرح غیر قریش میں مہاجرین و انصار آجاتے ہیں جو کہ اکثر قریشیوں سے بہتر ہیں اور ایسے ہی بنی ہاشم کے علاوہ دوسرے قریشیوں میں اور غیر قریشیوں میں بھی بہت سے لوگ بہتر پائے گئے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا :
’’جس زمانے میں میں بھیجا گیا ہوں وہ سب سے بہتر ہے پھر وہ جو ان کے بعد میں آئے اور پھر وه جوان کے بعد میں آئے۔‘‘
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بعد کے زمانوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو قرن ثانی اور قرن ثالث کے لوگوں سے بہتر ہیں اور اس کے باوجود نبی ﷺ نے قرن ثانی اور قرن ثالث کے لوگوں کو کسی خاص حکم شرعی کا پابند نہیں کیا بلکہ ایسا بھی نہیں کیا کہ صحابہ کو کوئی خاص احکام دیئے گئے ہوں جو کہ دوسروں کو نہیں دیئے گئے لیکن صحابہ کی فضیلت کو دیکھتے ہوئے ان کے افضل ہونے کے بارے میں خبر دی اور ایسے ہی وہ لوگ جنہوں نے اسلام لانے میں سبقت اختیار کی تھی، ان کی اس فضیلت کو اجاگر کیا ، لیکن انہیں کسی خاص حکم کا پابند نہیں کیا، تو واضح ہو گیا کہ اس فضیلت میں نسب کا کوئی دخل نہیں ہے۔
اب اہم ان چند امور کا تذکرہ کئے دیتے ہیں جن میں بعض اہل عرب کی افضلیت یا فوقیت ظاہر ہوتی نظر آتی ہے ۔ جیسے مسئلہ امارت، یعنی مسلمانوں کا امام کون ہوگا ؟ اب جب کہ تمام عربوں میں قبیلہ قریش کو فضیلت حاصل تھی، اس لئے طبعی طور پر وہ امامت کے حقدار ٹھہرے کہ اگر وہ موجود ہوں، اور یہ امامت بھی ان میں سے ایک شخص ہی کو حاصل ہوگی نہ کہ ہر ایک قریشی کو، اور ایسے ہی قریش ہی میں سے ان کی ایک شاخ بنی ہاشم ہے جن کے لئے صدقہ قبول کرنا حرام قرار دیا گیا اور یہ وہ شاخ ہے کہ جس میں اللہ کے رسول ﷺکا ظہور ہوا اور اس سے ان کی پاکیزگی کو پایہ تمام تک پہنچانا اور ان سے ہرقسم کی تہمت کو دور کرنا تھا بلکہ نبی کریمﷺ کے بارے میں یہ ہدایت دے دی گئی کہ ان کا کوئی ورثہ مال ودولت کی شکل میں نہ ہوگا ۔ اور زندگی میں بھی اللہ کے مال میں سے انہیں صرف اتنا دیا جائے گا جس سے وہ خود اور ان کے اہل بیت گذارا کر سکیں، مال غنیمت میں سے بھی ان کے لئے اور ان کے قرابت داروں کے لئے پانچواں حصہ مقرر کیا گیا اور باقی سارا مال مسلمانوں کی مصلحت عامہ کے لئے مختص کر دیا گیا ۔
ایک دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ نکاح کرتے وقت جب کفاءت (برابری) کو دیکھا جاتا ہے تو ایک غیر عربی، عرب کا کفوء نہیں ھوتا۔ لیکن یہ مسئلہ اختلافی مسئلہ ہے۔
کچھ علما کی رائے ہے کہ کفاءت میں صرف دین کا اعتبار ہوگا اور کچھ لوگ کفاءت میں نسب کا بھی اعتبار کرتے ہیں اور وہ سیدنا عمر کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ میں صاحب حیثیت ( ذوات الاحساب) لوگوں کو سوائے اپنے برابر لوگوں کے شادی کرنے سے روکوں گا ۔
اور وہ اس لئے کہ نکاح سے اصل مقصود یہ ہے کہ میاں بیوی پیار و محبت سے رہیں ، لیکن اگر عورت اونچی حیثیت کی حامل ہوگی تو وہ اپنے شوہر سے موافقت نہ کر سکے گی اور پھر نکاح کا مقصد حاصل نہ ہو سکے گا۔
اور پھر جن اہل علم کے نزدیک اسے اللہ کا حق قرار دیا گیا ہے وہ تو اس عورت کے نکاح کو سرے سے باطل قرار دیتے ہیں جو دین یا حیثیت کے اعتبار سے اپنے سے کمتر مرد سے شادی کر لیتی ہے اور جواہل علم اسے ایک شخصی حق قرار دیتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ اپنے سے کمتر شخص سے شادی کرنا عورت کے لئے بھی اور اس کے اولیاء کے لئے بھی شرم کا باعث ہے، اس لئے یہ ان کی اپنے رائے پر موقوف ہے کہ وہ ایسی شادی کریں یا نہ کریں ۔
اور پھر معاملہ نسب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ نسب بھی ان صفات کی طرح ہے کہ جس میں لوگ برابری کا لحاظ رکھتے ہیں جیسے ایک شخص کی کسی خاص کام میں مہارت ، یا اس کا دولتمند ہونا یا اس کا آزاد ہونا ۔ لیکن یہ سارے اجتہادی مسائل ہیں اور ان میں دیکھا جائے گا کہ کون سی بات اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے قریب ہے اور کون سی نہیں ، اور جو بات الله اور اس کے رسول کے فرمان کے مطابق ہو تو اس میں اختلاف کی قطعاً گنجائش نہیں ۔
اور اگر یہ قول کسی دوسرے کا ہو تو وہ قابل اعتبار نہیں۔
اور ان معاملات میں نبی ﷺ سے کوئی خاص نص منقول نہیں ہے ۔ بلکہ نبی ﷺ تو یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے جاہلیت کا فخر و غرور دور کر دیا ہے ۔ لوگ صرف دو طرح کے ہیں : متقی مؤمن اور یا پھر گناہگار بد نصیب۔‘‘
اور صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’میری امت میں 4 چیزیں جاہلیت کے زمانہ کی ہیں کہ جنہیں لوگ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں، اپنے حسب (سوسائٹی میں اپنے مقام) پر فخر کرنا ، نسب میں طعنہ زنی کرنا ، نوحہ کرنا ، ستاروں سے بارش کی امید رکھنا (یعنی علم نجوم کی مدد حاصل کرنا ) اور نبی ﷺ نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا :
’’اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں سے کنانہ کا انتخاب کیا ، کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب کیا تو میں تم سب میں شخصی اعتبار سے بھی اور نسب کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں۔‘‘
یہ خلاصہ کلام ہے، امام ابن تیمیہ﷫ کے مضمون کا
اور خلاصہ بحث یہ ہے کہ اہل عرب میں سے بنی ہاشم اور قریش کو نبی ﷺ کی نسبت سے ایک فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے انہیں چند خصوصیات سے نوازا گیا ہے لیکن جہاں تک احکام کا تعلق ہے تو وہ ویسے ہی تمام شریعت کے احکامات کے مکلف ہیں جیسے دوسرے مسلمان ، اور اس لیے نبی ﷺکے خطبہ حجتہ الوداع کے مطابق کسی عربی کو غیر عربی پر ا اور کسی کالے کو گورے پر (یابا لعکس) سوائے بربنائے تقویٰ کوئی فضیلت حاصل نہیں۔

About UmarWazir

Check Also

مرد کے لیے ہاتھوں اور پاؤں کی تلی میں مہندی لگانے کا حکم

سوال ہمارے ہاں ایک رسم پائی جاتی ہے کہ دلہا اور دلہن کے ہاتھوں اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish