کچھ لوگ کہتے ہیں: “زمانہ غدار ہے” اس کا کیا حکم ہے؟

سوال

کیا یہ کہنا جائز ہے کہ زمانہ غدار ہے؟ کیونکہ زمانہ بھی “دَھَر” کا ایک حصہ ہے، اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ “دھر” یعنی زمانے کو برا بھلا نہ کہو؛ کیونکہ اللہ تعالی “الدَھَر” ہے۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

یہ کہنا کہ : “زمانہ غدار ہے” جائز نہیں ہے؛ کیونکہ زمانہ کسی کے معاملے میں کچھ بھی تصرف نہیں کر سکتا؛ در حقیقت اس کائنات کے تمام معاملات اور امور میں تصرف اور ان کی منصوبہ بندی صرف اللہ تعالی ہی فرماتا ہے کہ جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے “الدَھَر” کو برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے؛ کیونکہ “الدَھَر” کو گالی دینے والے کی گالی در حقیقت اللہ تعالی تک پہنچتی ہے، اور اللہ تعالی ہر قسم کی برائی سے بلند و بالا ہے۔

اس حوالے سے تفصیلات پہلے سوال نمبر: (9571) کے جواب میں گزر چکی ہیں۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے کچھ جملوں کی بابت استفسار کیا گیا کہ: “زمانہ بہت خراب ہو گیا ہے” یا “زمانہ غدار ہے” یا “وہ گھڑی بڑی منحوس تھی جس میں میں نے تمہیں دیکھا” کہنا صحیح ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

“سوال میں مذکور جملوں کا مفہوم دو طرح کا ہو سکتا ہے:

پہلا مفہوم: یہ جملے زمانے کو گالی اور دشنام دینے کے لیے ہوں، تو پھر یہ جملے حرام ہیں جائز نہیں ہیں؛ کیونکہ زمانے میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اس لیے اگر کوئی زمانے کو گالی دیتا ہے تو وہ اللہ تعالی کو گالی دے رہا ہے، اسی لیے تو اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا: (مجھے ابن آدم تکلیف دیتا ہے، کہ وہ الدھر کو گالی دیتا ہے اور میں الدھر ہوں، یعنی زمانے کے سارے معاملات میرے ہاتھ میں ہیں میں ہی دن اور رات لاتا اور لے جاتا ہوں۔)

دوسرا مفہوم: انسان یہ جملے محض خبر دینے کے لیے کہے، تو پھر اس صورت میں یہ جملے بولنے میں کوئی حرج نہیں ہے، قران کریم میں سیدنا لوط علیہ السلام کا قول اللہ تعالی نے نقل فرمایا کہ: وَقَالَ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ ترجمہ: اور لوط نے کہا کہ: یہ دن بہت شدید ہے۔[ھود: 77] یعنی سخت دن ہے، اب یہ جملہ تقریباً سب لوگ ہی بولتے ہیں کہ یہ دن سخت ہے، فلاں دن میں ایسے ایسے معاملات ہوئے تھے۔ تو اس مفہوم میں یہ جملے کہے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

جبکہ یہ کہنا کہ: “زمانہ غدار ہے” تو یہ زمانے کو گالی دینے کے زمرے میں آتا ہے؛ کیونکہ غداری مذموم صفت ہے، کسی کو اس صفت سے موصوف کرنا جائز نہیں ہے۔

اور تیسرا جملہ کہ: ” وہ گھڑی بڑی منحوس تھی جس میں میں نے تمہیں دیکھا ” اگر اس سے مراد یہ لے کہ اس وقت میں میں منحوس تھا، تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لیے یہ زمانے کو گالی نہیں ہے، لیکن اگر اس سے مراد زمانہ لے ، یا دن لے تو پھر یہ زمانے کو گالی ہو گی جو کہ جائز نہیں ہے۔” ختم شد

“مجموع فتاوى و رسائل ابن عثیمین” (1/198)

واللہ اعلم

About UmarWazir

Check Also

مرد کے لیے ہاتھوں اور پاؤں کی تلی میں مہندی لگانے کا حکم

سوال ہمارے ہاں ایک رسم پائی جاتی ہے کہ دلہا اور دلہن کے ہاتھوں اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish