کتے کی نجاست کا حکم

سوال : کتے کی نجاست کا کیا حکم ہے ، مجھے یہ تو معلوم ہے کہ کتے کا لعاب دہن تو نجس ہے اور اسی لیے اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال لے تو اسے سات دفعہ دھونے کا حکم ہے لیکن اس کے بالوں کا کیا حکم ہے ، خاص طور پر اگر وہ اپنے مالک کے ساتھ سیر کرتے ہوئے گندے پانی میں ڈبکیاں لگاتار ہے ؟
جواب : اس مسئلہ میں تین اقوال نقل کئے گئے ہیں:
پہلا قول: مالکیہ کا ہے کہ کتے کا بدن، بال ، لعاب سب پاک ہیں۔
دوسرا قول احناف اور حنابلہ کا ہے کہ لعاب تو نجس ہے لیکن بدن اور بال پاک ہیں۔
تیسرا قول شوافع اور شیعہ کا ہے کہ کتا سارے کا سارا ناپاک ہے ۔ امام احمد کا ایک قول اسی رائے کے موافق بھی ہے اور عصر حاضر میں شیخ ابن باز اور شیخ صالح ابن عثیمین کی بھی یہ رائے ہے۔
اب ان تینوں آراء کے دلائل اختصار کے ساتھ ملاحظہ ہوں :
1۔اللہ تعالیٰ نے شکاری کتوں کا منہ سے روکا ہوا شکار حلال قرار دیا ہے۔
(سورة المائدة :4)
اگر اس کا لعاب ناپاک ہوتا تو منہ سے کیا ہوا شکار کیسے جائز ہوتا ؟
اور جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے جس میں اس برتن کو سات دفعہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے ، جس میں کتے نے منہ ڈالا ہو تو وہ ایک تعبدی امر ہے ، یعنی وہ ایک شرعی حکم ہے کہ جس کی ہم پابندی کرتے ہیں، اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چیز لازمی طور پر ناپاک ہو، انسان اپنے تھوک، بلغم اور ناک کی رطوبت کو بھی پانی سے صاف کرتا ہے، حالانکہ وہ ناپاک نہیں لیکن ایسا صفائی کی غرض سے کیا جاتا ہے۔
اور سیدنا ابن عمر سے ایک روایت آتی ہے کہ نبی ﷺکے زمانے میں کتے مسجد کے صحن میں آتے جاتے تھے اور پیشاب بھی کر دیا کرتے تھے اور صحابہ اس پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔ (صحیح بخاری)
اور ظاہر ہے کہ وہ مسجد کی زمین کو مسّ کرتے ہوں گے ، اپنا منہ بھی لگاتے ہوں گے ، اور پھر نبی ﷺ نے نہ ان کو نکالنے کا حکم دیا اور نہ ہی زمین کو دھونے کا ۔
اصحاب کہف کا کتا مشہور ہے، جن سات نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا ہے ، ان کےساتھ ساتھ ان کے کتے کا بھی ذکر ہے جو گھر اور باہر ان کے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔
وہ نوجوان نیک اور صالح افراد تھے ، کتا اگر نجس ہوتا تو وہ اُسے کیوں ساتھ رکھتے ؟ سلف میں عكرمہ، الزهرى ، عروة بن زبير، مالك بن أنس ، اوزاعی، ثوری اور ظاہریہ کے امام داؤد بن علی بھی اس رائے کے حامل رہے ہیں ۔
2۔ قاعدہ ہے کہ تمام اشیاء اصل میں پاک ہیں ، الا یہ کہ کسی نص سے ان کی نجاست ثا بت ہو جائے ۔
سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺنے ارشاد فرمایا: ’’اگر کتا تمہارے کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اُسے سات دفعہ دھونے سے پاک کیا جائے اور سب سے پہلے مٹی سے صاف کیا جائے ۔‘‘ (صحیح مسلم)
امام ابن تیمیہ﷫ نے بھی اسی مسلک کو اپنایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
راجح قول یہی ہے کہ بال سب کے سب پاک ہیں، چاہے وہ کتے کے ہوں یا سؤر کے، یا کسی دوسرے جانور کے، سوائے لعاب کے ، اور اس لحاظ سے اگر کتے کے بال گیلے بھی ہوں اور وہ انسان کے کپڑوں سے مسّ ہو جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اور یہی مذہب جمہور فقہاء جیسے امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد ( ایک قول کے مطابق) ہے اور وہ اس لیے کہ اشیاء میں اصل طہارت ہے، اور بغیر دلیل کے کسی چیزنجاست یا حرمت کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔‘‘ (فتاوی : 1؍264)
3۔تیسرے قول کی دلیل بھی مذکورہ حدیث ہی ہے اور ا س کے قائل شوافع ، امام احمد( ایک قول کے مطابق) اور شیعہ ہیں۔
ان کا استدلال اس بات سے ہے کہ کتے کے جھوٹے کو پھینکنے کا حکم دیا گیا، جبکہ کسی بھی مال کو ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے ، یعنی کتے کے منہ ڈالنے کی وجہ برتن میں جو کچھ بھی تھا سب نجس ہو گیا ، یہاں تک کہ برتن بھی ناپاک ہو گیا کہ اسے مٹی سے اور پھر سات دفعہ پانی سے دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔
اور ظاہر ہے کہ منہ کے ساتھ ساتھ اس کے بال بھی برتن سےمس ہوئے ہیں، اس لیے نہ صرف اس کا لعاب دہن بلکہ بال بھی نجس ہیں۔
ہم نے یہ تینوں قول اور ان کے دلائل ذکر کر دیئے ہیں اور بظاہر دوسرا قول ہی راجح دکھائی دیتا ہے کہ اسے اختیار کرنے میں آیات اور حدیث دونوں پر عمل ہو جاتا ہے ۔ یعنی کتے کو شکار، گھر اور بھیڑوں کی حفاظت کے لئے رکھا جاسکتا ہے؟ اور جب اُسے پالا جائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ انسان اس کے جسم اور اس کے بالوں کو مس کرنے سے بچ نہیں سکے گا ، البتہ اگر وہ کسی برتن میں منہ ڈال دے تو پھر اس برتن کو دھو کر صاف کرنا ضروری ہوگا۔

About UmarWazir

Check Also

مرد کے لیے ہاتھوں اور پاؤں کی تلی میں مہندی لگانے کا حکم

سوال ہمارے ہاں ایک رسم پائی جاتی ہے کہ دلہا اور دلہن کے ہاتھوں اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish