ایک نو مسلم لڑکی کے لیے اس کی غیر مسلم والدہ نے اپنا سارا مال وصیت کر دیا، اس کے مزید ورثا بھی ہیں تو کیا صرف تیسرا حصہ وصول کرے گی؟

سوال

ایک نو مسلم لڑکی کی والدہ جو کہ غیر مسلم تھی فوت ہو گئی، اور اپنے سارے مال کی وصیت مسلمان بیٹی کے نام کر گئی؛ کیونکہ اسے اعتماد تھا کہ وہ اپنی چھوٹی بہن کا بھی خیال رکھے گی، واضح رہے کہ فوت ہونے والی خاتون کا خاوند، دو بیٹیاں اور ایک بھائی ہے۔

کینیڈا کے قانون کے مطابق اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی فوت ہو جائے تو سارے کا سارا مال دوسرے کو چلا جاتا ہے، الا کہ اگر میت نے وصیت کسی اور کے نام کی ہو، تو کیا مسلمان لڑکی صرف ایک تہائی حصہ لے کیونکہ وہ وصیت میں سے لے رہی ہے، اور باقی مال دیگر ورثا پر تقسیم کر دیا جائے، یا پھر کیا کرے؟ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

کافر کی مسلمان کے لیے وصیت

مسلمان کے لیے کافر کی طرف سے کی گئی وصیت کو قبول کرنا اور وصیت کی گئی چیز کو وصول کرنا صحیح ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ “المغنی” (6/ 121)میں کہتے ہیں:
” مسلمان کی ذمی کے لیے، ذمی کی مسلمان کے لیے، اور ذمی کی ذمی کے لیے وصیت کرنا صحیح ہے۔ مسلمان کی ذمی کے لیے وصیت کے متعلق قاضی شریح، عامر شعبی، سفیان ثوری، امام شافعی، اسحاق اور اصحاب الرائے نے اجازت دی ہے۔ ان کے علاوہ کسی کا ان اہل علم کے موقف سے اختلاف کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ مزید محمد بن حنفیہ ، عطاء اور قتادہ فرمانِ باری تعالی: إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا ترجمہ: الا کہ تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔[الاحزاب: 6] کے بارے میں کہتے ہیں: یہاں مسلمان کی یہودی، اور عیسائی کے لیے وصیت مراد ہے۔

سعید کہتے ہیں: ہمیں سفیان نے ایوب عن عکرمہ کی سند سے بیان کیا کہ: صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے نے اپنا حجرہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ میں فروخت کر دیا ، ان کا ایک ہی یہودی بھائی تھا، سیدہ صفیہ نے انہیں مسلمان ہونے کی دعوت دی کہ مسلمان ہو جاؤ تو میرے وارث بن سکو گے، لیکن اس نے انکار کر دیا، اس پر سیدہ صفیہ نے 33 ہزار کی اپنے یہودی بھائی کے لیے وصیت کر دی۔

غیر مسلم کے لیے مسلمان کا ہبہ اگر درست ہے تو پھر وصیت بھی اسی طرح درست ہو گی جیسے مسلمان کے لیے درست ہوتی ہے۔

اور اگر مسلمان کی ذمی کے حق میں وصیت صحیح ہے تو پھر ذمی کی مسلمان کے لیے اور ذمی کی ذمی کے لیے وصیت تو بالاولی درست ہو گی۔

نیز یہ وصیت انہی شرائط کے تحت صحیح ہو گی جن کے تحت مسلمان کی مسلمان کے لیے وصیت صحیح ہوتی ہے، چنانچہ اگر میت اپنے کسی وارث کے لیے یا اجنبی کے لیے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر دے تو یہ بقیہ ورثا کی رضا مندی سے مشروط ہو گی، بالکل ایسے ہی جیسے کوئی مسلمان کے لیے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر دے۔” ختم شد

دوم:

کافر کی مسلمان کے لیے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت

اگر وصیت ایک تہائی ترکے یا اس سے کم کی ہو تو وصیت درست بھی ہو گی اور اسے نافذ بھی کیا جائے گا۔

لیکن اگر وصیت ایک تہائی ترکے سے زیادہ ہے تو یہ دیگر ورثا کی رضا مندی پر موقوف ہو گی۔

اس بنا پر: نو مسلم بہن اپنی والدہ کے دیگر ورثا سے رجوع کرے، اگر وہ اسے ایک تہائی سے زیادہ لینے کی اجازت دے دیں تو لے لے۔

اور اگر اجازت نہ دیں تو تب بھی سارا مال وصول کرے جیسے کہ وصیت میں لکھا ہوا ہے، اور شریعت سے متصادم قانون کو راہ نہ دے، لہذا وصیت میں سے ایک تہائی مال لے کر باقی شرعی تقسیم کے مطابق دیگر وارثوں میں تقسیم کر دے، اور کسی بھی طریقے سے شریعت سے متصادم قانون کو پنپنے کی راہ نہ دے۔

واللہ اعلم

About UmarWazir

Check Also

مرد کے لیے ہاتھوں اور پاؤں کی تلی میں مہندی لگانے کا حکم

سوال ہمارے ہاں ایک رسم پائی جاتی ہے کہ دلہا اور دلہن کے ہاتھوں اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish